تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

پاکستان نے واضح کیا ہے کہ انڈیا اور پاکستان کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت تین دریاؤں کے پانی پر پاکستان کا ’خاص حق‘ ہے اور پانی روکنے کی کسی بھی انڈین کوشش کو ’اشتعال انگیزی‘ کے مترادف سمجھا جائے گا۔

پاکستان نے یہ بھی کہا ہے کہ پانی روکنے کی کسی بھی کوشش کا معقول جواب دینے میں پاکستان حق بجانب ہو گا۔

واضح رہے کہ انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی نے حال ہی میں ریاست ہریانہ میں ایک انتخابی جلسے سے خطاب میں کہا تھا کہ وہ انڈیا سے پاکستان کو جانے والے پانی کو روک دیں گے۔ وزیر اعظم مودی کا مزید کہنا تھا کہ 'انڈیا کے کسانوں کا جس پانی پر حق تھا، ہریانہ کے کسانوں کا جس پانی پر حق تھا، وہ پانی گذشتہ 70 برسوں سے پاکستان کو جاتا رہا ہے۔ مودی یہ پانی روکے گا اور اسے آپ کے گھر تک لائے گا۔‘

انڈیا کون سا پانی روکنے کی بات کر رہا ہے؟

یہ پہلی بار نہیں کہ انڈیا میں کسی سیاستدان نے پاکستان جانے والے پانی کو روکنے کی بات کی ہو۔ لیکن ماہرین کے مطابق جس پانی کو روکنے کی بات کی جاتی ہے وہ انڈیا کے لیے مختص حصے میں سے تھا، یعنی سندھ طاس معاہدے کے مطابق ان دریاؤں کا پانی جس پر انڈیا کا پہلا حق ہے۔

انڈیا کے پاس اپنے حصے کے مکمل پانی کو ذخیرہ کرنے کی گنجائش اور انفراسٹرکچر نہیں ہے اور یہی وجہ ہے انڈیا کے حصے کا تین سے 10 فیصد تک پانی بغیر استعمال ہوئے پاکستان پہنچ جاتا ہے۔

انڈیا اپنے حصے سے ضائع ہونے والے پانی کو روک کر اپنے زیر استعمال لانا چاہتا ہے۔

ہریانہ سے متعلق وعدے کے کیا معنی؟

اگر مان لیا جائے کہ یہ پانی پاکستان جانا بند ہوجائے گا، تو اس کا مطلب یہ ہے کہ انڈیا اس پانی کا استعمال کاشت کاری اور بجلی کی پیداوار کے لیے کرے گا۔ یہ پہلی بار نہیں ہے کہ جب حکومت کے جانب سے اس طرح کا وعدہ کیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی پنجاب کی عوام کو اس طرح کے منصوبے کا خواب دکھایا جا چکا ہے۔ اس بار اسمبلی انتخابات کے دوران وزیر اعظم نریندر مودی نے یہ وعدہ ہریانہ کے عوام سے کیا ہے۔

لیکن جب بی بی سی ہندی نے اس بارے میں انڈیا کی ریاست پنجاب کے ایک سابق انجینئر سے بات کی تو انہوں نے شناخت نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ صرف انتخابی نعرہ ہے۔

ان کا کہنا تھا 'یہاں زمین کی سطح کچھ اس طرح ہے کہ راوی کا پانی بیاس تک نہیں لایا جاسکتا ہے۔'

ان کا مزید کہنا تھا 'اگر یہ ممکن ہو بھی گیا تو ان میں سے کوئی بھی دریا ہریانہ کی طرف نہیں بہتا۔ تو ہریانہ تک پانی لانے کا مطلب یہ ہوگا کہ جغرافیائی اعتبار سے ایک نہر(جو راوی اور بیاس کو ملائے گی) کو دریائے ستلج سے گزر کر دریائے جمنا میں گرنا ہوگا جس سے ہریانہ کو پانی ملتا ہے۔ تکنیکی طور پر یہ تقریباً نا ممکن ہے اور غیرمنطقی بھی۔'

علاقائی امور کے ماہر جگتار سنگھ نے اس کے بارے میں کہا کہ تکنیکی اعتبار سے یہ پانی ریاست راجستھان تو جاسکتا ہے لیکن بہت زیادہ نہیں 'جو وعدہ کیا گیا ہے اس کے مقابلے میں تو یہ مقدار کچھ بھی نہیں'۔

ان کا کہنا تھا کہ اگر یہاں مزید ڈیم تعمیر کیے گئے تھے تو قریب کی ریاست پنجاب میں سیلاب کی صورتحال پیدا ہوجائے گی۔' آپ مونسون کے دوران دریائے راوی کو قابو نہیں کرسکتے، جب اس کا پاٹ سرحد کے آر پار ہوتا ہے۔ باقی پورے سال یہ تقریباً خشک رہتا ہے۔ جب تک یہ لاہور پہنچتا ہے اس میں پانی تقریباً نہ ہونے کے برابر رہ جاتا ہے۔'

یہ بھی پڑھیے

سندھ طاس معاہدہ: انڈیا پاکستان مذاکرات کا آغاز

پاکستان میں انڈیا سے آنے والا پانی نعمت یا زحمت؟

’اپنا پانی پاکستان جانے سے روکنے پر کام کر رہے ہیں‘

پرانے زخموں کا ڈر

ماہرین کے مطابق ہریانہ کو دریائے سندھ سے پانی کی فراہمی کے لیے ایک پرانے لنک کو دوبارہ زندہ کرنا پڑے گا جو کہ 'ستلج جمنا لنک' یعنی وائی ایس ایل نہر ہے۔

انڈیا کی ریاست پنجاب اس کی سخت مخالف ہے۔ وہ کہہ چکے ہیں کہ ہم اپنا پانی کسی کو نہیں دے گیں۔ یہ معاملہ کئی دہائیوں سے سیاسی اعتبار سے حساس ہے۔ بی بی سی نے جن ماہرین سے بات کی ان کا کہنا تھا کہ اس طرح کا ایک معاہدہ تو ہوسکتا ہے کہ پنجاب کو راوی سے زیادہ پانی کی فراہمی کے بدلے وہ ہریانہ کے لیے ستلج جمنا لنک کو کھولنے کے لیے رضامند ہوجائے۔

لیکن جگتار سنگھ اس کو ایک ہوا میں قلعہ بنانے کے مترادف قرار دیتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا 'حکومت جو پانی پاکستان جانے سے روکنا چاہتی ہے وہ اتنا نہیں ہے کہ اس سے اس طرح کا کوئی منصوبہ بنایا جائے۔'

وہ ہمیں یاد دلاتے ہیں کہ آج کل انتخابات کا دور ہے اور وزیر اعظم نریندر مودی وہی کر رہے ہیں جو عموماً سیاستدان کرتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP پاکستان کا رد عمل

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ 'دونوں ممالک کے درمیان ہونے والے سندھ طاس معاہدے کے تحت پاکستان کا تین مغربی دریاؤں کے پانی پر خاص حق ہے۔‘

دفترِ خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں ان کا مزید کہنا تھا کہ ’انڈیا کی جانب سے اس طرح کا بیان اس حقیقت کی ایک اور مثال ہے کہ مودی حکومت انڈیا کو ایک غیر ذمہ دار اور جارہانہ ریاست بنانے پر آمادہ ہے، جس کی نظر میں انسانی حقوق اور بین الاقوامی برادری کے روبرو کیے گئے وعدوں کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔‘

امن کے لیے خطرہ

ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ انڈین حکومت کے اس طرح کے بیانات سے دنیا کی آنکھیں کھل جانی چاہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’دنیا کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مودی کی سخت گیر حکومت جنوبی ایشیا اور پوری دنیا کے امن کے لیے واضح طور پر ایک خطرہ ہے۔‘

کشمیر کی صورتحال

ڈاکٹر محمد فیصل نے انڈیا کے زیرِ اتنظام کشمیر کی صورتحال پر بھی سوال اٹھائے اور دعوی کیا کہ 'جموں کشمیر کے 80 لاکھ لوگ اس وقت باقی دنیا سے کٹ چکے ہیں۔‘

انھوں نے یہ بھی کہا کہ کشمیر کے مسئلے پر انڈیا عالمی سطح پر تنہا ہو چکا ہے۔

ترجمان کا مزید کہنا تھا 'انڈیا ایک کونے میں جا چکا ہے۔ ان کے حزبِ اختلاف کے رہنما اور سول سوسائٹی یہ کہہ رہے ہیں کہ ان کی حکومت کے ایک غلط قدم کی انھیں عالمی سطح پر کتنی بڑی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ عالمی لیڈر یہ کہہ رہے ہیں کہ اس مسئلے کا حل نکلنا چاہیے۔'

وزارت خارجہ کے ترجمان نے بابری مسجد سے متعلق تنازعہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں کہا کہ یہ ایک بےحد حساس معاملہ ہے اور 'ہم چاہیں گے کہ اس بارے میں انڈیا کے مسلمانوں کی خواہشات کے مطابق فیصلہ ہو۔'